میرے مسلمان بھائیوں بہنوں کے لیے: نبی عیسیٰ علیہ السلام کے حوالے سے 'کلمۃ اللہ' اور 'روح من اللہ' کی تفہیم
السلام علیکم، آج کل میں اپنے دین پر غور کرتے ہوئے کچھ وقت گزار رہا ہوں اور دیگر ابراہیمی روایات کے بعض پہلوؤں کا موازنہ کر رہا ہوں، خصوصاً نبی عیسیٰ (یسوع علیہ السلام) کی ذات کے حوالے سے۔ ایک بات جو مجھے ہمیشہ متاثر کرتی ہے وہ ہے ہمارے مشترکہ لسانی سرچشموں کی خوبصورتی۔ مثال کے طور پر، آرامی زبان میں اللہ کے لیے لفظ 'الاہا' ہے، جو عیسیٰ علیہ السلام کی زبان تھی، اور ہمارا 'اللہ' اسی مادے سے نکلا ہے۔ یہ ایک خوبصورت ربط ہے۔ جب آپ داستانوں پر نظر ڈالتے ہیں، تو کچھ واضح مماثلتیں نظر آتی ہیں جو ان کی عظیم شان کو اجاگر کرتی ہیں: * **معجزاتی ولادت:** قرآن میں فرشتہ جبریل علیہ السلام مریم علیہا السلام کو یہ خوشخبری دیتے ہیں کہ ان کے ہاں بیٹا ہوگا (سورہ مریم)۔ اللہ کے حکم سے کنواری پیدائش کا بنیادی تصور یہاں موجود ہے۔ * **مریم علیہا السلام کی تعظیم:** قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ مریم علیہا السلام کو تمام جہانوں کی عورتوں پر منتخب اور پاکیزہ بنایا گیا (سورہ آل عمران)۔ اسلام میں ان کا مقام انتہائی بلند اور محترم ہے۔ * **القابات 'کلمہ' اور 'روح':** یہ وہ حصہ ہے جو مباحثے کے لیے سب سے زیادہ دلچسپ ہے۔ قرآن عیسیٰ علیہ السلام کو 'اللہ کا کلمہ' (کلمۃ اللہ) اور 'اس کی جانب سے ایک روح' (روح من اللہ) قرار دیتا ہے۔ * **معجزات:** اللہ کے اذن سے، عیسیٰ علیہ السلام نے اندھوں اور کوڑھیوں کو شفا دی اور مُردوں کو زندہ کیا۔ یہ ان کی نبوت کی نشانیاں ہیں۔ * **معراج:** اللہ نے عیسیٰ علیہ السلام کو اپنی طرف اٹھا لیا؛ ہمارے عقیدے کے مطابق انہیں سولی پر نہیں چڑھایا گیا۔ * **ان کی واپسی:** قیامت سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام زمین پر واپس اتریں گے۔ تو میرا اصل سوال ہماری برادری کے لیے ان دو مخصوص تعریفوں کے بارے میں ہے: 'کلمۃ اللہ' اور 'روح من اللہ'۔ * ہم مسلمان کیسے سمجھتے ہیں کہ نبی عیسیٰ علیہ السلام کے 'کلمہ' اور 'روح' ہونے کا کیا مطلب ہے؟ * ان القابات کی اسلامی عقائدی تشریح کیا ہے؟ * اور سب سے اہم بات، یہ اسلامی فہم عیسائی عقیدے کے 'خدا کا بیٹا' ہونے سے کیسے مختلف ہے؟ میں صرف اپنی سمجھ کو اسلامی نقطہ نظر سے گہرا کرنا چاہ رہا ہوں، بحث کرنے کے لیے نہیں۔ آپ کی طرف سے شریک کردہ کسی بھی بصیرت کے لیے آپ سب کا شکریہ۔ جزاکم اللہ خیراً۔