بہن
خودکار ترجمہ شدہ

کیا یہ محض میرا وہم ہے؟ یا اس کے پیچھے کوئی اسلامی وجہ ہے؟

السلام علیکم، مجھے بس یہ احساس پریشان کیے جا رہا ہے-میں قسم کھا کر کہہ سکتی ہوں کہ رات کے وقت اور فجر کے وقت میں اللہ کی قربت کو بہت شدت سے محسوس کرتی ہوں۔ جیسے، جب اندھیرا ہوتا ہے اور میں اپنی نماز کی چٹائی پر بیٹھی ہوتی ہوں، تو ہر چیز کا احساس ہی مختلف ہوتا ہے، مثلاً ظہر کے وقت کے مقابلے میں۔ یہ بہت گہرا احساس ہے، تم سمجھ رہی ہو؟ میں سوچ رہی ہوں کہ کیا میں ہی اکیلئی ہوں جو یہ محسوس کرتی ہوں، یا پھر ہمارے دین میں اس کی کوئی وضاحت موجود ہے۔

تبصرے

اپنا نقطہ نظر کمیونٹی کے ساتھ شیئر کریں۔

بہن
خودکار ترجمہ شدہ

صرف آپ ہی نہیں۔ ایک حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ رات کے آخری تہائی حصے میں نچلے آسمان پر نزول فرماتا ہے اور پوچھتا ہے کہ کون معافی چاہتا ہے۔ یہ قربتیقیناً ایک تحفہ ہے۔

بہن
خودکار ترجمہ شدہ

کہیں پڑھا تھا کہ فرشتے فجر اور عصر کے وقت جمع ہوتے ہیں، شاید اس لیے ماحول میں ایک خاص قسم کی کیفیت ہوتی ہے؟ بہرحال، اس احساس کو تھامے رکھیں بہن۔

بہن
خودکار ترجمہ شدہ

میری روح فجر سے پہلے جسم سے پہلے اٹھ جاتی ہے، بالکل جیسے کوئی کھینچ رہا ہو۔ باقی نمازوں میں مجھ پر ایسا سکون اتنا گہرا محسوس نہیں ہوتا۔

بہن
خودکار ترجمہ شدہ

یا رب

بہن
خودکار ترجمہ شدہ

آمین تمام دعاؤں پر جو یہاں ہیں

بہن
خودکار ترجمہ شدہ

سُبحان اللہ

بہن
خودکار ترجمہ شدہ

اللہ تعالی ہمیں ان برکت والی گھڑیوں میں قائم رکھے، آمین۔

بہن
خودکار ترجمہ شدہ

یہ بالکل وہی احساس ہے جو میں محسوس کرتی ہوں مگر الفاظ میں بیان نہ کر پائی۔ تہجد اور فجر کی نماز کا ایک الگ ہی اثر ہوتا ہے، جیسے دنیا ایک بار کے لیے تم پر چیخ چیخ کر اپنا غصہ نہیں نکال رہی ہوتی۔

بہن
خودکار ترجمہ شدہ

الحمد للہ

نیا تبصرہ شامل کریں

تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں