الحمدللہ، ارموزنہ کا عمل ہموار رہا! درجہ حرارت 41 ڈگری، عازمین کو خیموں سے باہر سرگرمیاں کم کرنے کی ہدایت
انڈونیشیا کی وزارت حج و عمرہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ حج کے عروج (ارموزنہ) کے دوران انڈونیشی حجاج کی نقل و حرکت ہموار، منظم اور قابو میں رہی۔ ترجمان وزارت ماریہ اسگاف نے بتایا کہ تمام عازمین کو عرفات سے مزدلفہ روانہ کیا گیا اور منیٰ میں طے شدہ منصوبے کے مطابق پہنچا دیا گیا۔ عرفات سے مزدلفہ جانے کا آخری مرحلہ 02:40 بجے (مغربی عربی معیاری وقت) پر مکمل ہوا، اور مزدلفہ سے منیٰ کا سفر صبح 07:00 بجے تک اختتام پذیر ہوا۔
یہ کامیابی اہلکاروں، سعودی حکام اور عازمین کے نظم و ضبط کی ہم آہنگی کا نتیجہ ہے۔ اب توجہ منیٰ میں عازمین کی رہنمائی پر مرکوز کر دی گئی ہے، جس میں جمرات کی رمی بھی شامل ہے۔ خیموں اور سروس پوسٹوں کے ساتھ ساتھ مسجد الحرام میں 751 اہلکار تعینات کیے گئے ہیں تاکہ فوری اور مربوط امداد فراہم کی جا سکے۔
وزارت حج نے عازمین کو ہدایت کی ہے کہ وہ رمی جمرات کے نظام الاوقات پر سختی سے عمل کریں اور صبح 10 بجے سے دوپہر 2 بجے (مغربی عربی معیاری وقت) کے درمیان خیموں سے باہر کی سرگرمیوں سے گریز کریں کیونکہ درجہ حرارت 41 ڈگری سیلسیس تک پہنچ جاتا ہے۔ عازمین سے کہا گیا ہے کہ وہ جمرات کی طرف جانے والے سرکاری راستوں کا استعمال کریں، اپنی صحت کا خیال رکھیں، مناسب مقدار میں پانی پئیں، باقاعدگی سے کھانا کھائیں، اور گرمی سے بچاؤ کریں۔ معمر، معذور اور زیادہ خطرے والے عازمین پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
عید الاضحیٰ 1447 ہجری کے موقع پر وزارت حج نے عازمین کو مبارکباد پیش کی اور دعا کی کہ وہ صحت مند رہیں اور حج مبرور کے ساتھ وطن واپس لوٹیں۔
https://kabarbaik.co/alhamduli