ایک نوجوان کی بے باک درخواست اور نبی ﷺ کی نرم حکمت
ایک کہانی ہے کہ ایک نوجوان ہمارے پیارے نبی ﷺ کے پاس آیا اور سیدھا پوچھ بیٹھا، 'اے اللہ کے رسول، مجھے زنا کی اجازت دیجیے۔' وہاں موجود سب لوگ چونک گئے اور اسے چپ رہنے کو کہنے لگے۔ لیکن نبی ﷺ، ہمیشہ کی طرح پرسکون، اسے قریب بلایا اور بٹھایا۔ پھر آپ ﷺ نے پوچھا، 'کیا تم چاہو گے کہ کوئی تمہاری ماں کے ساتھ ایسا کرے؟' اس نے کہا، 'نہیں، اللہ کی قسم، میں آپ پر قربان جاؤں۔' نبی ﷺ نے فرمایا، 'اور کوئی بھی اپنی ماں کے لیے یہ پسند نہیں کرتا۔ تمہاری بیٹی کے بارے میں کیا خیال ہے؟' اس نے کہا، 'نہیں، اللہ کی قسم، میں آپ پر قربان جاؤں۔' نبی ﷺ نے فرمایا، 'لوگ اپنی بیٹیوں کے لیے بھی یہ نہیں چاہتے۔ اور تمہاری بہن؟' اس نے جواب دیا، 'نہیں، اللہ کی قسم، میں آپ پر قربان جاؤں۔' نبی ﷺ نے فرمایا، 'کوئی بھی اپنی بہن کے لیے یہ پسند نہیں کرے گا۔ تمہاری پھوپھی/خالہ کے بارے میں کیا کہو گے؟' پھر سے، نوجوان نے کہا، 'نہیں، اللہ کی قسم، میں آپ پر قربان جاؤں۔' تو نبی ﷺ نے فرمایا، 'لوگ اپنی پھوپھیوں/خالاؤں کے لیے بھی یہ پسند نہیں کریں گے۔' پھر نبی ﷺ نے اپنا بابرکت ہاتھ اس پر رکھا اور یہ خوبصورت دعا فرمائی: 'اے اللہ، اس کے گناہ بخش دے، اس کے دل کو پاک کر دے، اور اس کی عصمت کی حفاظت فرما۔' اور اس لمحے کے بعد، اس نوجوان کو کبھی کسی گناہ کی طرف رغبت بھی نہ ہوئی۔ یہ ایک زبردست یاد دہانی ہے کہ نرمی اور حکمت کے ساتھ کیسے رہنمائی کی جائے۔