ایک سنت جسے بہت سے لوگ نظر انداز کر دیتے ہیں: صلاۃ الضحیٰ کی برکتیں
السلام علیکم، پیارے بھائیو اور بہنو۔ میں آپ کو ایک خوبصورت سنت کی یاد دہانی کروانا چاہتا ہوں جو اکثر ہمارے ذہنوں سے نکل جاتی ہے – نمازِ الضحیٰ، جسے چاشت کی نماز بھی کہا جاتا ہے۔ یہ بہت سادہ عمل ہے مگر اس کا اجر بہت بڑا ہے۔ ابو ذر (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ ہمارے پیارے نبی ﷺ نے فرمایا: "ہر صبح تمہارے ہر جوڑ پر صدقہ واجب ہے۔ سبحان اللہ کہنا صدقہ ہے، الحمدللہ کہنا صدقہ ہے، لا الہ الا اللہ کہنا صدقہ ہے، اللہ اکبر کہنا صدقہ ہے، نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے، برائی سے روکنا صدقہ ہے، اور ان سب کے لیے دو رکعت نمازِ الضحیٰ پڑھ لینا کافی ہے۔" [مسلم] امام نووی نے فرمایا کہ یہ حدیث نمازِ الضحیٰ کی عظیم فضیلت اور اہمیت کو ظاہر کرتی ہے، چاہے وہ صرف دو رکعت ہی کیوں نہ ہو۔ ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ) نے کہا: "میرے گہرے دوست (نبی ﷺ) نے مجھے تین چیزوں کی وصیت فرمائی جنہیں میں مرتے دم تک نہیں چھوڑوں گا: ہر مہینے تین دن روزے رکھنا، نمازِ الضحیٰ پڑھنا، اور سونے سے پہلے وتر پڑھنا۔" [بخاری] اسی طرح کی روایت ابودرداء سے بھی آئی ہے [مسلم]۔ عائشہ (رضی اللہ عنہا) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ چار رکعت نمازِ الضحیٰ پڑھتے تھے، اور کبھی اس سے زائد بھی۔ [مسلم] اور ام ہانی سے روایت ہے کہ ایک دن غسل کے بعد آپ ﷺ نے آٹھ رکعت نمازِ الضحیٰ پڑھی۔ [مسلم] اب، کچھ فقہی نکات (حنفی): - کم از کم 2 رکعت، زیادہ سے زیادہ 12 رکعت ہے۔ - سب سے افضل 8 رکعت ہے، اور بہترین کم از کم 4 رکعت ہے۔ - اس کا وقت طلوع آفتاب سے لے کر زوال (آفتاب کے نصف النہار پر پہنچنے) سے ذرا پہلے تک ہے۔ - مستحب وقت دن کا چوتھائی حصہ گزرنے کے بعد ہے۔ - نماز میں سورہ الشمس اور سورہ الضحیٰ پڑھنا مستحب ہے۔ آئیے اس سنت کو اپنے گھروں میں، اپنے خاندانوں کے ساتھ زندہ کریں۔ سوچیں کہ اپنی بیوی اور بچوں کو ساتھ ملا کر صرف دو رکعت پڑھنا سکھانا – یہ بڑا اجر کمانے اور خاندان کے طور پر ہمارا رشتہ مضبوط کرنے کا ایک سادہ طریقہ ہے۔ اللہ ہماری کوششوں کو قبول فرمائے اور ہمیں استقامت عطا کرے۔ جزاکم اللہ خیراً۔