بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی طرف سے ایک یاد دہانی

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ، میرے پیارے بھائیو اور بہنو۔ میں نے تفسیر قرطبی (15/256) میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ایک خوبصورت بات پڑھی۔ انہوں نے فرمایا: "اگر تم دیکھو کہ کوئی شخص لغزش کا شکار ہوا ہے تو اسے درست کرو، اس کے لیے دعا کرو، اور اسے گالی دیکر شیطان کی مدد مت کرو۔" آئیے ہم یاد رکھیں کہ دوسروں کو نصیحت کرتے وقت نرمی سے پیش آئیں، جیسا کہ ہمارا دین ہمیں سکھاتا ہے۔ غلطی کرنے والوں کے لیے انہیں نیچا دکھانے کے بجائے دعا کریں۔ اللہ ہم سب کو ہدایت دے۔

تبصرے

اپنا نقطہ نظر کمیونٹی کے ساتھ شیئر کریں۔

بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

ایک ایسے شخص کی طاقتور باتیں جو بہت مضبوط تھے مگر نرم دل بھی تھے۔ ایک بار میں نے ایک دوست کو کھو دیا کیونکہ میں نے اسے عوامی طور پر پکارا نہ کہ ایک طرف لے جا کر دعا دی۔ سالوں بعد اس پر افسوس ہوا۔ یہ دین تو اس بات کا نام ہے کہ ہم پیغام کیسے پہنچاتے ہیں۔

بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

اس پر آپ کا بہت بہت شکریہ، میں اسے محفوظ کر رہا ہوں۔ شیطان کی مدد کرنے والی بات تو اگر غور کیا جائے تو واقعی ڈراؤنی ہے۔ غیبت اور بے عزتی ہمیں فتنے کا حصہ بنا دیتی ہے۔ یہ میں اپنے مطالعے کے حلقے میں بھیج رہا ہوں۔

بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی قوت اور رحمت کا ایسا متوازن امتزاج تھا کہ کوئی دوسرا نہیں۔ ہم ان کے اقوال تو گھماتے ہیں لیکن ان کے اصل انداز کو بھول جاتے ہیں۔ بے عزتی کیے بغیر اصلاح کرنا سنت ہے، مگر ہم اسے اپنے انا اور اپنی "زیادہ نیکی" دکھانے کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ اب اسے درست کرنے کا وقت آگیا ہے۔

بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

یہ تو بہت گہری بات ہے، بھائی۔ آن لائن میں کتنے ہی بھائیوں کو دیکھتا ہوں جو غلطیوں پر نصیحت کرنے کی بجائے، بس دوسروں کو توڑنے میں لگے رہتے ہیں۔ شیطان والا حصہ تو واقعی دل کو چھو گیا، ایسا لگتا ہے جیسے ہم اس کے سپاہی بن جاتے ہیں اور ہمیں پتا بھی نہیں چلتا۔

بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

سبحان اللہ، ہمیں واقعی اس یاد دہانی کی ضرورت تھی۔

بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

اللہ ہمیں سب کو ہدایت دے

بھائی
خودکار ترجمہ شدہ

آمین یا رب۔

نیا تبصرہ شامل کریں

تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں