ان مسلمانوں کے نام پیغام جو سمجھتے ہیں کہ دین کا مذاق اڑانا مضحکہ خیز ہے یا غیر مسلموں کو خوش کرنے کی کوشش میں اسلام کے خلاف ان کا ساتھ دیتے ہیں
سبحان اللہ، جب میں کچھ مسلمانوں کو دیکھتا ہوں جو اپنے دین کا مذاق اڑا کر اسے ہلکا لیتے ہیں یا اپنے عقیدے کی قیمت پر غیر مسلموں کو خوش کرتے ہیں، تو مجھے سورہ توبہ میں اللہ عز و جل کا یہ فرمان یاد آتا ہے: "وَلَئِن سَأَلْتَهُمْ لَيَقُولُنَّ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ ۚ قُلْ أَبِاللَّهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ (65) لَا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُم بَعْدَ إِيمَانِكُمْ"۔ مطلب یہ کہ معاملہ سادہ نہیں، اللہ، اس کی آیات یا اس کے رسول ﷺ کا استہزا کرنا تمہیں دائرہ اسلام سے نکال سکتا ہے، اللہ کی پناہ! اسی طرح سورہ بقرہ میں رب ہمیں خبردار کرتا ہے: "وَلَن تَرْضَىٰ عَنكَ الْيَهُودُ وَلَا النَّصَارَىٰ حَتَّىٰ تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ ۗ قُلْ إِنَّ هُدَى اللَّهِ هُوَ الْهُدَىٰ ۗ وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُم بَعْدَ الَّذِي جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَكَ مِنَ اللَّهِ مِن وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ"۔ یعنی اگر کوئی اپنے دین کی پرواہ کیے بغیر ان کی رضا کے پیچھے بھاگے، تو وہ اللہ کی ولایت اور مدد کھو دے گا۔ سچ میں، جب آدمی ان آیات کو پڑھتا ہے تو اسے خود سے پوچھنا چاہیے: کیا میں واقعی اپنے دین کی فکر کرتا ہوں یا صرف بہاؤ کے ساتھ چل رہا ہوں؟ اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں حق پر ثابت رکھے اور ہماری لغزشوں کو معاف فرمائے۔