رمضان کے رخصت ہونے سے پہلے ایک دلی یاددہانی
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔ صحیح حدیث جو جامع ترمذی (حدیث نمبر 3545) میں موجود ہے، ہمیں بتاتی ہے: نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام ان کے پاس آئے اور کہا: 'وہ شخص دور ہو (اللہ کی رحمت سے) جس نے رمضان پایا پھر وہ اس کے معاف ہونے سے پہلے گزر گیا۔' رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آمین۔ اصل نقصان تو اس شخص کا ہے جو رمضان کو معافی حاصل کیے بغیر گزرنے دے۔ ذرا اس پر غور کریں۔ رمضان وہ مہینہ ہے جب رحمت کے دروازے کھلے ہیں، گناہ مٹائے جاتے ہیں، اور اللہ ہر رات پکارتا ہے، پوچھتا ہے کہ کون معافی مانگتا ہے تاکہ وہ عطا کرے۔ لہٰذا، وہ شخص حقیقی طور پر محروم ہے جو رمضان کو ویسے ہی ختم کر دے جیسا وہ تھا… پھر بھی وہی برائیوں کے بوجھ تلے… بغیر اپنے رب کی طرف سچے دل سے رجوع کیے۔ لیکن اسلام کی خوبصورت رحمت یہ ہے کہ توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ نے اس رمضان کا بہتر استعمال نہیں کیا، تو شیطان کی وسوسہ اندازیوں میں نہ آئیں کہ یہ سب ختم ہو گیا یا بہت دیر ہو گئی ہے۔ • اللہ کی طرف سچے دل سے رجوع کریں۔ • خلوص دل سے دعا میں اسے پکاریں۔ سلامت توبہ (توبہ کی نماز) ادا کریں۔ بار بار اس کی بخشش طلب کریں۔ اللہ اس شخص کو پسند کرتا ہے جو اس کی طرف لوٹتا ہے، خواہ وہ کتنی ہی بار منہ موڑ چکا ہو۔ رمضان کی یہ آخری راتیں وہ راتیں ہو سکتی ہیں جو آپ کے لیے سب کچھ بدل دیں۔ رمضان کو اپنے سے معافی حاصل کیے بغیر نہ جانے دیں۔ آج رات اللہ کی طرف واپس آ جائیں۔ 🌙🤍 اے اللہ، ہمارے تمام گناہوں کو معاف فرما، ہمارے روزوں اور نمازوں کو قبول فرما، اور پوری امت پر اپنی رحمت نازل فرما۔ ہمیں رمضان سے ایسے نہ نکال کہ جو بخشے ہوئے اور ہدایت یافتہ ہوں۔ آمین، یا رب العالمین۔ 🤲🏼 🌙🤍