سورۃ الکوثر کا ایک تسلی بخش یاد دہانی - اللہ نے نبی ﷺ کی کس طرح تسلی دی
السلام علیکم۔ سورہ الکوثر میں پیغمبر محمد ﷺ کی زندگی کی سب سے متاثر کن کہانیوں میں سے ایک ہے۔ اپنے چھوٹے بیٹے کی دردناک موت کے بعد، پیغمبر کے دل میں گہرا غم تھا۔ مہربانی کرنے کے بجائے، کچھ لوگوں نے سختی سے ردعمل دیا۔ ایک شخص، العاص بن وائل، نے تو ان کا مزاق بھی اڑایا، کہا کہ ان کا نسل ختم ہوگئی اور کہ بغیر بیٹوں کے آدمی بھول جاتا ہے۔ اسی مشکل لمحے میں، اللہ نے سورہ الکوثر نازل کی۔ پہلا آیت سیدھا تسلی دیتا ہے: اللہ نے پیغمبر کو بہت ساری بھلائی عطا کی ہے۔ علماء کہتے ہیں کہ الکوثر صرف جنت میں ایک دریا سے زیادہ ہے - یہ وسیع عزت، نعمتیں، بہت سے پیروکاروں، اور اللہ کی طرف سے دی گئی ایک پائیدار وراثت شامل ہے۔ یہ اللہ کی اپنے محبوب رسول ﷺ کے لیے نرم تسلی تھی، ظاہر کرتے ہوئے کہ اصل قیمت اللہ کی رضا سے ملتی ہے، نہ کہ بچوں، دولت، یا معاشرتی حیثیت سے۔ سورہ کا اختتام بھی مزاحیہ لوگوں کے الفاظ کو پلٹ دیتا ہے۔ اللہ واضح کرتا ہے کہ بھولنے والا محمد ﷺ نہیں ہوگا، بلکہ وہ لوگ جو ان کا مزاق اڑاتے تھے اور ان کے خلاف تھے، وہ لوگوں کی یاد سے مٹ جائیں گے۔ تاریخ نے یہ سچ ثابت کیا: جنہوں نے پیغمبر کی توہین کی، ان کے نام صرف ان کی دشمنی کی وجہ سے یاد رکھے جاتے ہیں، جبکہ محمد ﷺ کا نام ہر روز اربوں کی محبت سے لیا جاتا ہے۔ ان کا پیغام اور وراثت دنیا بھر میں پھیلتا رہتا ہے۔ سورہ الکوثر ایک توہین کا جواب نہیں ہے۔ یہ ایک سبق ہے کہ عزت اللہ سے آتی ہے، کہ مشکل کے بعد الہی تسلی آ سکتی ہے، اور کہ سچائی کا مزاق اڑانے سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پائیدار وراثت خالق کی طرف سے طے ہوتی ہے، اور جب اللہ کسی کو بلند کرتا ہے تو کوئی بھی حقیقت میں انہیں نیچے نہیں لاسکتا۔