قرآن دیاں آیات تے ابن کثیر دا تفسیر دنیا دے قصوراں بارے ربّ العالمین دی نظر وچ
السلام علیکم ورحمة اللہ میں نے سوچا کہ کچھ آیات پر اپنا سادہ غور و فکر شئیر کروں گا، ابن کثیر کی وضاحت کے ساتھ، کچھ آسان انداز میں: پہلی آیت: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَاضْرِبْ لَهُمَّ مَثَلَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا...﴾ [الكهف: 45] یہ یاد دہانی ہے کہ دنیا کی زندگی ایسی ہے جیسے بارش جو زمین کو سبز کرتی ہے، پھر سوکھ جاتی ہے اور ہوا کے ساتھ اڑ جاتی ہے۔ جیسا کہ ابن کثیر نے بتایا: دنیا کھلتی ہے پھر ختم ہو جاتی ہے، اور اس میں جو کچھ باقی رہتا ہے، وہ صرف اللہ کی مرضی ہے۔ تو ہمیں اس کی چمک دمک پر غافل نہیں ہونا چاہیے بلکہ آخرت کے لیے تیاری کرنی چاہیے۔ دوسری آیت: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ...﴾ [الحديد: 20] یہ آیت واضح کرتی ہے کہ دنیا عارضی ہے: کھیل، سجاوٹ، فخر کرنا اور مال و اولاد جمع کرنا، یہ سب ایسی چیزوں کی طرح ہیں جیسے بارش کے قطرے ہیں جو کسانوں کو خوش کر دیتی ہیں اور پھر سوکھ کر بکھر جاتی ہیں۔ ابن کثیر نے ذکر کیا کہ یہ ایک وارننگ ہے کہ ہم ایسی چیزوں میں نہ لگے رہیں جو ہمیں دھوکہ دیتی ہیں یا آخرت کے کاموں سے غافل کرتی ہیں، کیونکہ یا تو عذاب ہے یا اللہ کی مغفرت اور خوشنودی۔ تیسری آیت: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ﴾ [الأعلى: 16-17] یہ ایک صاف یاد دہانی ہے کہ بہت سے لوگ دنیا کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں، حالانکہ آخرت بہتر اور دائم ہے۔ ابن کثیر بتاتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی زیب و زینت کو آپ کے آخرت کے کاموں کے یاد رکھنے پر غالب نہ آنے دیں۔ سادہ خلاصہ (عاجزی کے ساتھ): - دنیا عبوری ہے اور اس کی چمک دمک ہمیں دھوکہ دے سکتی ہے، تو ہمیں اس پر اکیلے ہی انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ - آخرت کے لیے عمل کرنا بہتر ہے اور اس کا انعام بہتر ہوگا۔ - ہمیں ہمیشہ نیک نیت اور ایسے اعمال کی یاد دلاتے رہنا چاہیے جو ہمارے لیے اللہ کے پاس ثابت ہوں۔ جزاکم اللہ خیراً، اور اللہ آپ کے وقت میں برکت دے۔