سورۃ البقرہ 'تے غور - دل لئی اک یاد دہانی
السلام علیکم۔ ڈاکٹر زغلول النجار رحمہ اللہ نے ایک بار فرمایا کہ جب بھی وہ سورۃ البقرہ پڑھتے ہیں تو ان کے دل میں ایک گہری سکون محسوس ہوتی ہے، پھر بھی دو چھوٹے سوالات بار بار ان کے سامنے آتے ہیں: سب سے بڑی سورۃ کو “البقرہ” (گائے) کیوں کہا گیا؟ اور اتنی ساری مختلف احکامات، کہانیاں، اور آیات کیسے ایک واضح پیغام میں موتی کی طرح پروئی گئی ہیں؟ کچھ نقاد تو اس کا مذاق بھی اُڑاتے ہیں، کہتے ہیں یہ ایک چیز سے دوسری چیز پر بغیر کسی منطقی نتیجے کے چھلانگ لگاتی ہے۔ لیکن قرآن کوئی بے ترتیب انسانی تخلیق نہیں ہے؛ یہ ایک عقلمند اور جاننے والے رب کا کلام ہے، اور ہر چیز ایک مقصد کے ساتھ رکھی گئی ہے۔ پہلا: “البقرہ” کا نام کیوں ہے؟ ظاہری طور پر کہانی سادہ ہے لیکن معنی میں گہری ہے۔ بنی اسرائیل میں ایک آدمی کا قتل ہوا اور قاتل معلوم نہیں تھا۔ انہوں نے نبی موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا، اور جو ہدایت ملی وہ یہ تھی: ایک گائے ذبح کرو۔ وہ حیران ہو گئے - وہ ایک قتل کے بارے میں پوچھ رہے تھے، مگر حکم غیر متعلق سا لگ رہا تھا - تو انہوں نے ٹال مٹول کی اور سوال کیے، یہاں تک کہ آخر کار انہوں نے اطاعت کی۔ جب انہوں نے جیسی ہدایت دی گئی تھی ویسی ہی گائے کو مارا، تو ایک معجزہ ہوا: مقتول کو عارضی طور پر زندہ کیا گیا اور اس نے اپنے قاتل کی نشاندہی کی۔ نقطہ یہ ہے: اپنے رب کے حکم کے ساتھ جھگڑا نہ کرو؛ اسے بغیر کسی غیر ضروری تاخیر کے پورا کرو۔ اطاعت نیکیو لاتی ہے۔ دوسرا: سورۃ کی آیات کو آپس میں کیا جوڑتا ہے؟ سورۃ البقرہ صرف ایک احکامات کی کتاب یا کہانیوں کی کتاب نہیں ہے - یہ حقیقت میں زمین پر جانشینی کے بارے میں ایک سورۃ ہے۔ یہ دو اہم مناظر پیش کرتی ہے: حصہ اول: زمین پر تین جانشین اور تین مختلف نتائج۔ 1) آدم علیہ السلام نے غلطی کی لیکن فوراً توبہ کی - جزوی کامیابی۔ 2) بنی اسرائیل نے برکتیں، کتابیں، اور نبی ملے مگر وہ بحث و تکرار، سازشیں، اور بغاوت میں جا گرے - ناکامی۔ 3) ابراہیم علیہ السلام نے ہر آزمائش کے جواب میں کہا، “ہم سننے اور ماننے کو تیار ہیں” - مکمل کامیابی۔ حصہ دوم: اب آپ کا وقت ہے۔ ان تین ماڈلز کو دکھانے کے بعد، سورۃ احکامات اور قانون سازی پیش کرتی ہے - روزے، قصاص، خرچ، سود، شادی، طلاق، تجارت، قرض - جیسے خدا کہہ رہا ہو: ان قوانین پر عمل کرنے سے پہلے، یہ فیصلہ کرو کہ آپ کس قسم کے ہوں گے۔ کیا آپ آدم جیسی ہیں، جو غلطی کرتا ہے لیکن پلٹ آتا ہے؟ یا بنی اسرائیل کی طرح، جو سنتے ہیں مگر اطاعت نہیں کرتے؟ یا ابراہیم کی طرح، جو بغیر بحث کے تسلیم کرتے ہیں؟ پھر ایک اہم یاد دہانی آتی ہے: اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، اور وہ آپ کے دلوں کے اندر جو ہے اس کا حساب لے گا۔ صحابہ آنکھوں میں آنسو لے آئے اور کہنے لگے، “اے اللہ کے رسول، ہم یہ برداشت نہیں کر سکتے ہیں۔” نبی ﷺ نے خبردار کیا، “بنی اسرائیل کی طرح نہ بنو جنہوں نے کہا، ‘ہم سننے اور ماننے کو تیار ہیں،’” اور صبر کے ذریعے مؤمنین نے اللہ کی تعریف حاصل کی: “پیغمبر نے اپنے رب کی طرف سے جو کچھ اس پر نازل کیا ہے اس پر ایمان لایا، اور مؤمنین بھی۔” انہوں نے کہا، “ہم سننے اور ماننے کو تیار ہیں۔ ہمارے رب، ہمیں معاف فرما؛ تیری طرف لوٹنا ہے۔” اور پھر تسلی بخش یقین آیا: اللہ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ نہیں بوجھتا۔ آخر میں، دعا: “ہمارے رب، اگر ہم بھول جائیں یا غلطی کریں تو ہمیں جوابدہ نہ کر۔” یہ ایک فریاد ہے: ہمیں معاف فرما اگر ہم آدم کی طرح پھسل جائیں؛ ہمیں ان لوگوں کی طرح بوجھ نہ ڈال جو پہلے نافرمانی کی؛ ہمیں معاف کر، رحم کر، اور ہمیں ابراہیم کی جماعت میں شامل کر - اطاعت اور حقیقی کامیابی کی جماعت۔ یہ سورۃ صرف “البقرہ” نہیں ہے، بلکہ عزم اور انتخاب کے بارے میں ایک باب ہے: یا تو ایک مخلص جانشین بنو یا بحث و تکرار اور ٹال مٹول میں پھنس جاؤ۔ اگر یہ آپ کے دل میں پہنچی، تو ایک چھوٹی سی دعا کے ساتھ اسے روشن کرو: اے اللہ، ہمارے نبی محمد ﷺ پر رحمتیں اور سلام بھیج۔