غاشیۃ دی اک آیت تے اک سادہ غور وفکر
اسلام علیکم ورحمة الله وبرکاتہ اج دن کچھ چہرے بے حد شرمندہ ہون گے۔ (قیامت کے دن کچھ چہرے شرمندہ اور عاجز ہوں گے.) قتادہ نے یہ وصف بیان کیا اور ابن عباس نے کہا: "وہ عاجزی دکھائیں گے مگر یہ ان کے کچھ کام نہیں آئے گا." پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: محنت کرنے والے، تھکنے والے (جیسے کہ وہ محنت کرنے والے تھکے ہارے ہیں.) یعنی: انہوں نے کام کیے اور محنت کی اور اتنا تھک گئے کہ ان کی طاقت جواب دے گئی، اور اس کے باوجود ان کو قیامت کے دن سخت آگ میں پھینکا جائے گا۔ حافظ ابو بکر البرقانی نے ابو عمران جون کی روایت بیان کی کہ کہا: جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ایک راہب کے پنساری سے گزرے اور اسے بلایا: "اے راہب!" راہب باہر آیا اور جب اس نے عمر کو دیکھا تو رو پڑا۔ لوگوں نے پوچھا: "اے امیر المؤمنین، آپ کیوں رو رہے ہیں؟" اس نے کہا: "میں نے اللہ تعالیٰ کا یہ قول یاد کیا: محنت کرنے والے، تھکنے والے - جو سخت آگ میں جلیں گے (محنت کرنے والے تو ہیں مگر یہ سخت آگ ہے)," اور مجھے اس کا افسوس ہوا۔ بخاری نے ابن عباس سے روایت کی کہ کچھ لوگوں نے دنیا میں محنت کی اور کوشش کی، مگر معصیت میں، تو ان کا انجام عذاب کے عذاب میں ہوگا۔ اور یہ بھی کہا کہ عکرمہ اور سدی نے اس آیت کی تفسیر کی کہ یہ دنیا کی لذتوں اور معاصی میں محنت کا ذکر ہے، پھر ان کا بدلہ عذاب اور ہلاکت کی آگ میں ہوگا۔ ابن عباس، حسن، اور قتادہ کے مشابهہ تفسیرات بھی ہیں۔ ہلکی سی یاد دہانی: یہ آیات ہمیں نصیحت کرتی ہیں کہ اپنے اعمال کا جائیزہ لیں، الطاعت میں محنت کریں نہ کہ معصیت میں، اور اس دن سے ڈریں جب نہ مال نہ اولاد کچھ کام آئیں گے مگر وہ شخص آئے گا جس کا دل صاف ہوگا۔ اے اللہ، ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جنہوں نے اپنے رب سے ڈرا اور انہیں عذاب جھیلنے سے بچا لیا۔ والسلام علیکم۔