ایک اچھے دل والا فرد، مگر اسلام سے دور۔ آپ کی رائے چاہتی ہوں۔
اپنی انٹرنشپ کے دوران میرا ایک سپروائزر تھا جو سچ کہوں تو میرے ملنے والوں میں سب سے زیادہ صبر کرنے والا، نرم خو اور برداشت رکھنے والا شخص تھا-واللہ، میں نے کئی پابندِ شرع بھائیوں کو دیکھا ہے مگر ان کا کردار اُس کے قریب بھی نہیں پہنچتا۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہ مسلمان ہونے کے باوجود اسلام کی اصل دولت سے محروم ہے۔ یہ بات میرا دل دکھاتی ہے، اور میں مسلسل دعا کرتی رہتی ہوں کہ اللہ اُسے ہدایت سے مالا مال فرما دے۔ کبھی کبھار وہ ایسے کام کر جاتا ہے جو اسلامی اقدار کے خلاف ہوتے ہیں، مگر یہ نادانی اور عمل نہ کرنے کی وجہ سے ہے-اُسے بس بہتر علم ہی نہیں۔ پھر بھی، ان لمحات کے علاوہ، میں نے اُس میں ایسی دیانت داری دیکھی ہے کہ اگر وہ پکّا مسلمان بن جائے تو اُس کی موجودگی جہاں بھی ہو ایک نعمت ہوگی، اور اللہ کے فضل سے ہماری اُمّت کے لیے رحمت بن جائے گا۔ میں اللہ سے دعائیں کرتی رہی ہوں، اور مجھے یقین ہے کہ وہ ایسی چمکتی ہوئی شخصیت کو گُمشدہ چھوڑ دے گا اور آخر میں دوزخ میں ڈال دے گا۔ کیا سب سے زیادہ انصاف کرنے والا اُس شخص کو ہدایت نہیں دے گا جس کے اندر نیکی ہے اور جو اُس پر ایمان رکھتا ہے؟ مجھے یہ بھی پتہ نہیں کہ میں یہاں کیا پوچھ رہی ہوں۔ کہ اللہ اُسے ہدایت دے؟ یا شاید میں کس طرح کردار ادا کر سکتی ہوں؟ کیا میں اُسے قرآن تحفے میں دوں؟ اپنے اخلاق سے بات کرواؤں؟ اگر میں یا کوئی اور اُس سے یہ موضوع اٹھائے تو شروع کہاں سے کریں؟ وہ اپنی زندگی کے بارے میں کھلا اور ایماندار ہے، مگر میں بلاوجہ اُس کی ذاتی زندگی میں مداخلت نہیں کرنا چاہتی۔ یہ بات مجھ پر بوجھ بنی ہوئی ہے کیونکہ میں نے لوگوں کو متاثر ہوتے اور اسلام کے لیے اپنی زندگیاں بدلتے دیکھا ہے، لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ اللہ کی مدد کے بغیر، اگر اُس کی مرضی نہ ہو تو یہ محض ناممکن ہے۔ پھر بھی-کسی نہ کسی کو تو کوشش کرنی چاہیے، ٹھیک ہے؟ میں آپ کی رائے سننا چاہوں گی، اور اللہ آپ سب کو بہت زیادہ اجر دے۔